والدین کے لیے ضروری معلومات
پلمونری اسٹینوسس پیدائشی دل کی بیماری ہے جس میں دل سے پھیپھڑوں کی طرف خون لے جانے والا راستہ تنگ ہوتا ہے۔ زیادہ تر بچوں میں یہ تنگی پلمونری والو میں ہوتی ہے۔ یہ والو دل کے دائیں نچلے خانے، یعنی دائیں وینٹریکل، اور پھیپھڑوں کی شریان کے درمیان موجود ہوتا ہے۔
بعض بچوں میں تنگی معمولی ہوتی ہے اور صرف باقاعدہ معائنے کی ضرورت پڑتی ہے، جبکہ شدید تنگی کی صورت میں علاج یا فوری مداخلت ضروری ہوسکتی ہے۔
پلمونری اسٹینوسس دل کو کیسے متاثر کرتا ہے؟
صحت مند دل میں پلمونری والو آسانی سے کھلتا ہے اور خون دل سے پھیپھڑوں تک پہنچتا ہے۔ پلمونری اسٹینوسس میں والو کے پردے موٹے، آپس میں جڑے ہوئے یا کم کھلنے والے ہوسکتے ہیں۔
اس وجہ سے دل کے دائیں حصے کو خون آگے بھیجنے کے لیے زیادہ دباؤ پیدا کرنا پڑتا ہے۔ اگر تنگی زیادہ ہو تو وقت کے ساتھ دائیں وینٹریکل کے پٹھے موٹے ہوسکتے ہیں اور دل کی کارکردگی متاثر ہوسکتی ہے۔
اس بیماری کی وجہ کیا ہے؟
یہ بیماری عموماً بچے کی پیدائش سے پہلے، دل کی تشکیل کے دوران پیدا ہوتی ہے۔ زیادہ تر صورتوں میں اس کی کوئی ایک واضح وجہ معلوم نہیں ہوتی۔
اہم بات یہ ہے کہ: «یہ بیماری عام طور پر والدین کی کسی غلطی، خوراک یا معمول کی سرگرمی کی وجہ سے نہیں ہوتی۔»
پلمونری اسٹینوسس:
- اکیلے دل کے نقص کے طور پر ہوسکتا ہے۔
- دل کی دوسری پیدائشی بیماریوں کے ساتھ موجود ہوسکتا ہے۔
- بعض جینیاتی بیماریوں، مثلاً نونن سنڈروم، کے ساتھ پایا جاسکتا ہے۔
- کبھی کبھار تنگی والو کے نیچے یا پھیپھڑوں کی شریان میں بھی ہوسکتی ہے۔
اس کی علامات کیا ہیں؟
علامات کا تعلق تنگی کی شدت سے ہوتا ہے۔
معمولی تنگی
معمولی پلمونری اسٹینوسس والے اکثر بچوں میں کوئی علامت نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر معمول کے معائنے کے دوران دل کی غیرمعمولی آواز، یعنی ہارٹ مرمر، سن کر مزید جانچ کا مشورہ دے سکتا ہے۔
درمیانی یا شدید تنگی
ممکنہ علامات میں شامل ہیں:
- دودھ پیتے ہوئے تھک جانا
- دودھ پینے میں دشواری
- وزن کا مناسب طور پر نہ بڑھنا
- کھیلنے یا چلنے سے جلد تھک جانا
- سانس پھولنا
- ورزش کے دوران سینے میں تکلیف
- چکر آنا یا بے ہوش ہونا
- ہونٹوں یا جلد کا نیلا پڑنا
شدید بیماری والے نومولود بچے میں پیدائش کے فوراً بعد نیلاہٹ، تیز سانس، دودھ نہ پینا یا غیرمعمولی سستی پیدا ہوسکتی ہے۔ ایسی حالت میں فوری طبی امداد ضروری ہے۔
پلمونری اسٹینوسس کی تشخیص کیسے ہوتی ہے؟
بچے کا طبی معائنہ
ڈاکٹر بچے کے دل کی آواز، نبض، آکسیجن کی سطح، سانس اور عمومی حالت کا جائزہ لیتا ہے۔
ایکوکارڈیوگرافی
ایکو دل کا ایک محفوظ اور بے درد الٹراساؤنڈ ہے۔ یہ پلمونری اسٹینوسس کی تشخیص کا بنیادی ٹیسٹ ہے۔
ایکو کے ذریعے معلوم کیا جاتا ہے:
- تنگی کہاں موجود ہے؟
- پلمونری والو کی ساخت کیسی ہے؟
- تنگی کتنی شدید ہے؟
- دائیں وینٹریکل پر کتنا دباؤ ہے؟
- دل کی کارکردگی کیسی ہے؟
- دل میں کوئی اور پیدائشی نقص تو موجود نہیں؟
الیکٹروکارڈیوگرام
ای سی جی سے دل کی دھڑکن اور برقی سرگرمی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ شدید تنگی کی صورت میں اس پر دائیں وینٹریکل کے دباؤ یا موٹائی کے آثار نظر آسکتے ہیں۔
بعض پیچیدہ صورتوں میں مزید تصویری معائنے یا کارڈیک کیتھیٹرائزیشن کی ضرورت پڑسکتی ہے۔
کیا ہر بچے کو علاج کی ضرورت ہوتی ہے؟
نہیں۔ علاج کا فیصلہ تنگی کی شدت، بچے کی علامات، دائیں وینٹریکل کے دباؤ اور دل کی مجموعی کارکردگی کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔
معمولی پلمونری اسٹینوسس
معمولی تنگی والے بیشتر بچوں کو دوا یا کسی فوری طریقۂ علاج کی ضرورت نہیں ہوتی۔ انہیں وقتاً فوقتاً بچوں کے ماہرِ امراضِ قلب سے معائنہ اور ایکو کروانا ہوتا ہے۔
درمیانی یا شدید پلمونری اسٹینوسس
اگر تنگی نمایاں ہو، بچے میں علامات موجود ہوں یا دائیں وینٹریکل پر بہت زیادہ دباؤ پڑ رہا ہو تو علاج کی ضرورت ہوسکتی ہے۔
بیلون پلمونری ویلوولوپلاسٹی کیا ہے؟
موزوں مریضوں میں پلمونری والو کی تنگی کا ترجیحی علاج عموماً بیلون پلمونری ویلوولوپلاسٹی ہوتا ہے۔
اس طریقۂ علاج میں:
- عموماً ٹانگ کی خون کی نالی سے ایک باریک ٹیوب داخل کی جاتی ہے۔
- ٹیوب کو دل کے تنگ پلمونری والو تک پہنچایا جاتا ہے۔
- والو کے مقام پر ایک خاص غبارہ رکھا جاتا ہے۔
- غبارے کو چند لمحوں کے لیے پھلایا جاتا ہے۔
- اس سے والو کے جڑے ہوئے پردے کھل جاتے ہیں اور خون کے بہاؤ میں بہتری آتی ہے۔
یہ اوپن ہارٹ سرجری نہیں ہے۔ زیادہ تر بچے اس علاج کے بعد تیزی سے صحت یاب ہوجاتے ہیں۔
ویڈیو: بیلون پلمونری ویلوولوپلاسٹی
سرجری کی ضرورت کب پڑتی ہے؟
سرجری کی ضرورت ان حالات میں ہوسکتی ہے جب:
- پلمونری والو کی ساخت بیلون کے لیے موزوں نہ ہو۔
- والو بہت زیادہ موٹا یا غیرمعمولی بنا ہوا ہو۔
- تنگی والو کے بجائے اس کے نیچے یا اوپر موجود ہو۔
- دل میں کوئی دوسرا نقص بھی ہو جس کی سرجری ضروری ہو۔
- بیلون کے بعد بھی نمایاں تنگی باقی رہ جائے۔
ہر بچے کے لیے علاج کا فیصلہ اس کی ایکو رپورٹ اور مجموعی طبی حالت کے مطابق کیا جاتا ہے۔
علاج کے بعد فالو اَپ کیوں ضروری ہے؟
کامیاب بیلون یا سرجری کے بعد بھی بچے کا باقاعدہ فالو اَپ ضروری ہوتا ہے۔ معائنے اور ایکو کے ذریعے یہ دیکھا جاتا ہے کہ:
- تنگی دوبارہ تو نہیں بڑھ رہی؟
- والو سے خون واپس تو نہیں آرہا؟
- دائیں وینٹریکل کی جسامت اور کارکردگی کیسی ہے؟
- دل کی دھڑکن باقاعدہ ہے؟
- بچے کی جسمانی سرگرمی اور نشوونما مناسب ہے؟
بیلون کے بعد پلمونری والو میں کچھ لیکیج ہوسکتی ہے۔ اکثر یہ معمولی ہوتی ہے، لیکن اس کی باقاعدہ نگرانی ضروری ہے۔
کیا بچہ معمول کی زندگی گزار سکتا ہے؟
مناسب نگرانی اور بروقت علاج کے بعد زیادہ تر بچے صحت مند اور فعال زندگی گزار سکتے ہیں۔ معمولی تنگی والے بچوں کو اکثر روزمرہ سرگرمیوں میں کسی خاص پابندی کی ضرورت نہیں ہوتی۔
البتہ کھیلوں اور سخت ورزش کے متعلق فیصلہ بچے کی بیماری کی شدت، علامات اور دل کی کارکردگی کو دیکھ کر بچوں کا ماہرِ امراضِ قلب کرے گا۔
کن علامات پر فوری ہسپتال جانا چاہیے؟
اگر بچے میں درج ذیل علامات پیدا ہوں تو فوری طبی مدد حاصل کریں:
- ہونٹوں یا جلد کا مسلسل نیلا پڑنا
- سانس لینے میں شدید دشواری
- بے ہوشی یا اچانک گر جانا
- غیرمعمولی کمزوری یا بہت زیادہ سستی
- دودھ پیتے ہوئے پسینہ اور تیز سانس
- دودھ بالکل نہ پینا
- ورزش کے دوران شدید سینے کا درد
والدین کے لیے تسلی بخش پیغام
بچے کے دل کے والو میں تنگی کی خبر والدین کے لیے پریشان کن ہوسکتی ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ایکوکارڈیوگرافی کے ذریعے پلمونری اسٹینوسس کی شدت کا درست اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر بیلون کے ذریعے مؤثر علاج دستیاب ہے۔
بروقت تشخیص، مناسب علاج اور باقاعدہ فالو اَپ کے ساتھ زیادہ تر بچوں کا مستقبل بہت اچھا ہوتا ہے۔
طبی وضاحت: یہ مضمون صرف عمومی آگاہی کے لیے ہے۔ یہ کسی بچے کے انفرادی طبی معائنے، تشخیص یا علاج کا متبادل نہیں۔ ہر بچے کی بیماری اور ضروریات مختلف ہوسکتی ہیں، اس لیے بچوں کے ماہرِ امراضِ قلب سے مشورہ ضروری ہے۔
ڈاکٹر ملک عابد علی
ایم بی بی ایس، ایف سی پی ایس اطفال، ایف سی پی ایس اطفال کارڈیالوجی
کنسلٹنٹ پیڈیاٹرک اینڈ انٹروینشنل کارڈیالوجسٹ