والدین کے لیے آسان رہنمائی
اگر حمل کے دوران ڈاکٹر آپ کو بتائے کہ بچے کے دل کی دھڑکن معمول سے بہت کم ہے، تو یقیناً یہ والدین کے لیے پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ دل کی دھڑکن کم ہونے کی ایک اہم وجہ پیدائشی ہارٹ بلاک (Congenital Heart Block) ہو سکتی ہے۔
یہ ایک نسبتاً نایاب لیکن اہم بیماری ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ اسے حمل کے دوران یا پیدائش کے فوراً بعد تشخیص کیا جا سکتا ہے، اور مناسب نگرانی اور بروقت علاج سے بہت سے بچے اچھی اور فعال زندگی گزار سکتے ہیں۔
پیدائشی ہارٹ بلاک کیا ہے؟
ہمارے دل کے اندر ایک قدرتی برقی نظام موجود ہوتا ہے جو دل کی دھڑکن کو کنٹرول کرتا ہے۔ عام طور پر برقی سگنل دل کے اوپری خانوں سے نچلے خانوں تک پہنچتا ہے اور دل کو باقاعدگی سے دھڑکنے میں مدد دیتا ہے۔
مکمل پیدائشی ہارٹ بلاک (Complete Congenital Heart Block) میں یہ برقی پیغام صحیح طریقے سے نچلے خانوں تک نہیں پہنچ پاتا۔ اس وجہ سے بچے کے دل کی دھڑکن معمول سے بہت کم ہو سکتی ہے۔
کیا اس بیماری کا پتا حمل کے دوران چل سکتا ہے؟
جی ہاں۔
بعض اوقات معمول کے حمل کے معائنے یا الٹراساؤنڈ کے دوران ڈاکٹر محسوس کرتا ہے کہ بچے کے دل کی دھڑکن مسلسل کم ہے۔ اسے Fetal Bradycardia کہا جاتا ہے۔
ایسی صورت میں بچے کے دل کا تفصیلی الٹراساؤنڈ یعنی Fetal Echocardiography کروانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
اس معائنے سے ڈاکٹر یہ جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ:
- بچے کے دل کی دھڑکن کتنی ہے؟
- دل کی دھڑکن باقاعدہ ہے یا نہیں؟
- دل کی ساخت نارمل ہے یا کوئی پیدائشی نقص موجود ہے؟
- دل کی پمپنگ مناسب ہے یا کمزور ہو رہی ہے؟
- کیا بچے میں دل کی کمزوری کے آثار موجود ہیں؟
حمل کے دوران تشخیص کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ بچے کی پیدائش سے پہلے ہی علاج اور نگرانی کا منصوبہ بنایا جا سکتا ہے۔
پیدائشی ہارٹ بلاک کیوں ہوتا ہے؟
اس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں، لیکن ایک اہم وجہ ماں کے خون میں موجود کچھ Autoimmune Antibodies ہیں۔
خصوصاً Anti-Ro/SSA اور Anti-La/SSB antibodies حمل کے دوران ماں سے بچے تک پہنچ سکتی ہیں اور بعض بچوں میں دل کے برقی نظام کو متاثر کر سکتی ہیں۔
یہ اینٹی باڈیز بعض اوقات Lupus یا Sjögren’s syndrome جیسی autoimmune بیماریوں میں پائی جاتی ہیں۔
ایک اہم بات یہ ہے کہ بعض ماؤں کو اپنی بیماری کا پہلے سے علم نہیں ہوتا اور وہ بظاہر بالکل صحت مند ہوتی ہیں۔ کبھی کبھار بچے میں ہارٹ بلاک کی تشخیص کے بعد ماں کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں اور اس طرح ماں کی چھپی ہوئی autoimmune بیماری بھی سامنے آ جاتی ہے۔
پیدائش کے بعد بچے کے کون سے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں؟
اگر حمل کے دوران بچے کے دل کی دھڑکن کم رہی ہو تو پیدائش کے فوراً بعد بچے کا تفصیلی معائنہ ضروری ہوتا ہے۔
ECG کے ذریعے دل کے برقی نظام اور ہارٹ بلاک کی نوعیت معلوم کی جاتی ہے، جبکہ Echocardiography (Echo) کے ذریعے دل کی ساخت اور پمپنگ کی صلاحیت دیکھی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ بچے کی دل کی دھڑکن، بلڈ پریشر، آکسیجن، سانس، دودھ پینے کی صلاحیت اور خون کی گردش کی مسلسل نگرانی کی جا سکتی ہے۔
کیا ہر بچے کو Pacemaker لگانا ضروری ہوتا ہے؟
نہیں۔
ہر بچے کی حالت مختلف ہوتی ہے۔ صرف دل کی دھڑکن کی تعداد دیکھ کر فیصلہ نہیں کیا جاتا۔
ڈاکٹر بچے کی دل کی دھڑکن کے ساتھ ساتھ دل کی پمپنگ، بلڈ پریشر، خون کی گردش، علامات اور دل کی دوسری ممکنہ بیماریوں کو بھی دیکھتے ہیں۔
اگر بچہ مستحکم ہو تو بعض صورتوں میں اسے قریبی نگرانی میں رکھا جا سکتا ہے۔
لیکن اگر دل کی دھڑکن بہت کم ہو، خون کی گردش متاثر ہونے لگے یا دل کی پمپنگ کمزور ہونے لگے تو Pacemaker کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
Pacemaker کیا کرتا ہے؟
Pacemaker ایک چھوٹا سا آلہ ہے جو دل کو مناسب رفتار سے دھڑکنے کے لیے برقی سگنل فراہم کرتا ہے۔
اگر بچے کی حالت اچانک خراب ہو جائے تو بعض حالات میں پہلے Temporary Pacemaker کے ذریعے دل کی دھڑکن کو سہارا دیا جا سکتا ہے۔
اگر بچے کو مستقل طور پر pacing کی ضرورت ہو تو بعد میں Permanent Pacemaker لگایا جا سکتا ہے۔
کیا نوزائیدہ بچے کو بھی Pacemaker لگ سکتا ہے؟
جی ہاں۔
اگر ضرورت ہو تو بہت چھوٹے اور نوزائیدہ بچے میں بھی pacemaker لگایا جا سکتا ہے۔ تاہم اتنے چھوٹے بچے میں یہ ایک انتہائی مہارت طلب علاج ہے جس کے لیے تجربہ کار Pediatric Cardiology، Neonatology، Cardiac Surgery، Cardiac Anesthesia اور Intensive Care ٹیموں کے درمیان قریبی تعاون ضروری ہوتا ہے۔
بروقت pacemaker بعض شدید حالات میں بچے کی جان بچانے والا علاج ثابت ہو سکتا ہے۔
Pacemaker کے بعد بچے کی زندگی کیسی ہوتی ہے؟
بہت سے بچے جن میں isolated congenital complete heart block ہو اور انہیں مناسب وقت پر علاج اور pacemaker فراہم کیا جائے، اچھی نشوونما کر سکتے ہیں، سکول جا سکتے ہیں اور معمول کی زندگی گزار سکتے ہیں۔
البتہ ایسے بچوں کو Pediatric Cardiologist کے ساتھ طویل مدتی follow-up کی ضرورت ہوتی ہے۔
وقتاً فوقتاً ECG، Echo اور Pacemaker کی جانچ کی جاتی ہے تاکہ بچے کی بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ دل اور pacemaker دونوں کی کارکردگی کی نگرانی کی جا سکے۔
والدین کو فوری ڈاکٹر سے کب رابطہ کرنا چاہیے؟
اگر حمل کے دوران بار بار بچے کی دل کی دھڑکن بہت کم ریکارڈ ہو تو اسے نظر انداز نہ کریں اور Fetal/Pediatric Cardiology assessment کروائیں۔
پیدائش کے بعد اگر بچے میں بہت کم دل کی دھڑکن، دودھ پینے میں مشکل، غیر معمولی سستی، سانس لینے میں دشواری، نیلاہٹ، بے ہوشی یا خون کی گردش کم ہونے کی علامات نظر آئیں تو فوری طبی معائنہ ضروری ہے۔
والدین کے لیے سب سے اہم پیغام
پیدائشی ہارٹ بلاک ایک سنجیدہ بیماری ضرور ہے، لیکن بروقت تشخیص اور مناسب منصوبہ بندی بہت بڑا فرق پیدا کر سکتی ہے۔
اگر حمل کے دوران بچے کے دل کی دھڑکن غیر معمولی طور پر کم ہو تو اس کی مکمل جانچ کروانا ضروری ہے۔
جلد تشخیص ہونے سے بچے کی پیدائش مناسب مرکز میں پلان کی جا سکتی ہے، نوزائیدہ اور دل کے ماہرین کو پہلے سے تیار کیا جا سکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر pacemaker کا انتظام بھی پہلے سے کیا جا سکتا ہے۔
ایک غیر معمولی طور پر سست fetal heartbeat کو نظر انداز نہ کریں — بروقت تشخیص ایک ننھے دل کی زندگی بچا سکتی ہے۔
یہ مضمون والدین کی آگاہی اور عمومی معلومات کے لیے ہے۔ یہ کسی بچے کی انفرادی طبی تشخیص یا اپنے معالج، ماہرِ اطفال یا Pediatric Cardiologist کے مشورے کا متبادل نہیں ہے۔