کیا دل کے ہر سوراخ کو بند کرنا ضروری ہے؟
بچے کی ایکو رپورٹ میں ’’دل میں سوراخ‘‘ کا ذکر سن کر والدین پریشان ہوسکتے ہیں۔ لیکن ہر سوراخ کی نوعیت اور اہمیت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ ASD اور PFO دو مختلف حالتیں ہیں؛ ان کی نگرانی اور علاج بھی مختلف ہوسکتے ہیں۔
ASD کیا ہے؟
دل کے اوپر دو خانے ہوتے ہیں، جنہیں دایاں اور بایاں ایٹریم کہتے ہیں۔ ان کے درمیان ایک دیوار ہوتی ہے۔
ایٹریل سیپٹل ڈیفیکٹ، یعنی ASD،میں اس دیوار کا کچھ حصہ پیدائشی طور پر مکمل نہیں بنتا، جس سے ایک کھلا راستہ رہ جاتا ہے۔ عموماً اس راستے سے خون بائیں خانے سے دائیں خانے میں جاتا ہے۔
اگر خون کی اضافی مقدار زیادہ ہو تو دل کے دائیں حصے اور پھیپھڑوں پر بوجھ بڑھ سکتا ہے۔ تاہم چھوٹا ASD اکثر کوئی نمایاں مسئلہ پیدا نہیں کرتا
PFO کیا ہے؟
ماں کے پیٹ میں بچے کے دل کے اوپر والے خانوں کے درمیان ایک قدرتی راستہ ہوتا ہے، جسے فورامن اوولے کہتے ہیں۔ یہ پیدائش سے پہلے خون کی گردش کا ضروری حصہ ہے۔
پیدائش کے بعد اس راستے کا پردہ عموماً بند ہوجاتا ہے۔ اگر پردہ پوری طرح نہ جڑے تو اسے پیٹنٹ فورامن اوولے، یعنی PFO، کہتے ہیں۔
یہ ASD کی طرح دیوار کے ٹشو کی کمی نہیں، بلکہ قدرتی پردے کا مکمل طور پر بند نہ ہونا ہے۔ تقریباً ہر چار میں سے ایک شخص میں PFO موجود ہوسکتا ہے، اور زیادہ تر لوگوں میں اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔
ASD اور PFO میں بنیادی فرق
- ASD دل کے دائیں حصے کو بڑا کرسکتا ہے –
- الگ تھلگ PFO عموماً دل کو بڑا نہیں کرتا
کیا بچے میں علامات ہونا ضروری ہے؟
نہیں۔ ASD والے بہت سے بچے بظاہر بالکل صحت مند ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ڈاکٹر دل کی اضافی آواز، یعنی ہارٹ مرمر، سن کر ایکو تجویز کرتا ہے۔ بڑا ASD ہونے کے باوجود چھوٹے بچوں میں واضح علامات نہ بھی ہوں۔ کچھ بچوں میں کھیلنے سے جلد تھکنا یا سانس پھولنا ہوسکتا ہے۔ اگر بچے کی نشوونما کم ہو، دودھ پینے میں دشواری ہو یا بار بار سانس کی بیماری ہو تو مکمل معائنہ ضروری ہے؛ ان علامات کی دوسری وجوہات بھی ہوسکتی ہیں۔
صرف PFO ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ بچے کی ہر شکایت اسی کی وجہ سے ہے۔
تشخیص کیسے ہوتی ہے؟
ایکوکارڈیوگرافی دل کا الٹراساؤنڈ ہے اور ASD یا PFO کی جانچ کا بنیادی طریقہ ہے۔ اس سے ڈاکٹر سوراخ کی ساخت، خون کے بہاؤ اور دل پر اس کے اثرات کا جائزہ لیتا ہے۔
علاج کا فیصلہ صرف رپورٹ میں درج ملی میٹر دیکھ کر نہیں کیا جاتا۔ دل کے دائیں حصے کی جسامت، خون کی اضافی گردش، بچے کی علامات اور ساتھ موجود دیگر مسائل بھی اہم ہیں۔
کیا ASD خود بند ہوسکتا ہے؟
بچپن، خصوصاً شیرخوار عمر میں ملنے والے بعض چھوٹے ASD وقت کے ساتھ چھوٹے یا بند ہوسکتے ہیں۔ ہر ASD کے لیے ایسا ہونا ضروری نہیں۔
کوئی دوا ASD کو بند نہیں کرتی۔
اگر دوا دی جائے تو وہ کسی متعلقہ علامت یا مسئلے کے لیے ہوتی ہے۔
ASD کو بند کرنا کب ضروری ہوتا ہے؟
اگر ASD کی وجہ سے دل کے دائیں حصے پر نمایاں بوجھ پڑ رہا ہو تو ڈاکٹر اسے بند کرنے کا مشورہ دے سکتا ہے، چاہے بچہ زیادہ علامات ظاہر نہ کررہا ہو۔
چھوٹے اور غیر اہم ASD میں صرف نگرانی کافی ہوسکتی ہے۔ مناسب وقت اور طریقۂ علاج بچوں کا ماہرِ امراضِ قلب طے کرتا ہے۔
ASD کا علاج کیسے ہوتا ہے؟
ڈیوائس کے ذریعے بند کرنا
ASD کی عام قسم، سیکنڈم ASD، اگر ساخت کے لحاظ سے موزوں ہو تو اسے کیتھیٹر کے ذریعے ڈیوائس لگا کر بند کیا جاسکتا ہے۔
عموماً ٹانگ کی خون کی نالی سے ایک باریک ٹیوب دل تک پہنچائی جاتی ہے، اور سوراخ پر بند کرنے والی ڈیوائس رکھی جاتی ہے۔ اس طریقے میں سینہ کھولنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
سرجری
اگر سوراخ کی جگہ، جسامت یا اردگرد کے ٹشو ڈیوائس کے لیے موزوں نہ ہوں، یا ساتھ کوئی اور نقص ہو، تو سرجری کی ضرورت ہوسکتی ہے۔
ہر ASD ڈیوائس کے ذریعے بند نہیں کیا جاسکتا۔
کیا PFO کے لیے دوا یا آپریشن ضروری ہے؟
دوسری بیماری کے بغیر، اتفاقاً ملنے والا PFO عموماً کسی دوا، ڈیوائس یا آپریشن کا تقاضا نہیں کرتا۔ ایسے بچوں کو اکثر مستقل کارڈیالوجی فالو اَپ بھی درکار نہیں ہوتا، بشرطیکہ ماہر نے تشخیص کی تصدیق کردی ہو۔
بہت خاص طبی حالات میں مزید جانچ ضروری ہوسکتی ہے؛ فیصلہ ہر بچے کی صورتِ حال کے مطابق کیا جاتا ہے۔
علاج کے بعد فالو اَپ کیوں ضروری ہے؟
ASD بند ہونے کے بعد ڈاکٹر ایکو اور معائنے سے علاج کے نتیجے، دل کی جسامت اور کسی باقی مسئلے کا جائزہ لیتا ہے۔ فالو اَپ کا وقفہ ہر بچے کے لیے یکساں نہیں ہوتا۔
تجویز کردہ دوائیں، کھیلوں میں واپسی اور دانتوں کے علاج سے متعلق ہدایات اپنے معالج سے معلوم کریں
والدین کے لیے اہم پیغام
ایکو رپورٹ میں ASD یا PFO لکھا ہونے پر گھبرانے کے بجائے ڈاکٹر سے یہ تین سوال پوچھیں:
- کیا یہ واقعی ASD ہے یا صرف PFO؟
- کیا اس سے دل پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے؟
- اگلا معائنہ کب ہوگا، اور کیا علاج کی ضرورت ہے؟
اگر بچے کو شدید سانس کی دشواری، مسلسل نیلاہٹ یا بے ہوشی ہو تو فوری طبی مدد حاصل کریں۔ ایسی علامات کو محض PFO کا نتیجہ سمجھ کر نظرانداز نہ کریں۔ درست تشخیص اور مناسب نگرانی کے ساتھ زیادہ تر بچوں کا مستقبل اچھا ہوتا ہے۔
طبی وضاحت: یہ مضمون عمومی آگاہی کے لیے ہے۔ کسی بچے کے انفرادی علاج کا فیصلہ اس کے معائنے اور ایکو کے مطابق کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر ملک عابد علی
ایم بی بی ایس، ایف پی سی ایس اطفال، ایف پی سی ایس اطفال کارڈیالوجی
کنسلٹنٹ پیڈیاٹرک اینڈ انٹروینشنل کارڈیالوجسٹ
شفا انٹرنیشنل ہسپتال، اسلام آباد