۱۴ اکتوبر ۲۰۲۶

عقلِ معاش

عقلِ معاش

میرے والد نے عقلِ معاش پر کوئی کتاب نہیں لکھی۔ انہوں نے اپنی زندگی میں اس کے جواب دیے۔ ایک بلب، لکڑی کا قلم اور مٹی پر لکھا ہوا حساب—ان چھوٹی چھوٹی یادوں میں گھر چلانے کی حکمت، وسائل کی قدر اور اولاد کی تربیت کے وہ سبق چھپے ہیں جو آج بھی میرے ساتھ ہیں۔

باب اوّل: والد کے ساتھ ایک صبح

آج صبح والد کے ساتھ چلتے ہوئے مجھے اپنے بچپن کی کئی باتیں یاد آئیں۔ وہ واقعات جو کبھی روزمرہ زندگی کا معمول لگتے تھے، آج ان میں ایک گہری حکمت دکھائی دینے لگی۔ میں سوچتا رہا کہ میرے والد نے محدود وسائل کے باوجود گھر کیسے چلایا، ہماری ضروریات کیسے پوری کیں، اور ہماری تعلیم کے لیے کیسے راستے بنائے۔

یہ سیر میرے لیے صرف صبح کی چہل قدمی نہیں تھی۔ والد کے ساتھ وقت گزارنے میں ایک جذباتی قربت تھی، اور میرے لیے اپنے ماضی کو سمجھنے کا موقع۔ ان کے پہلو میں چلتے ہوئے مجھے محسوس ہوا کہ عمر کے اس حصے میں باپ کو بیٹے کے وقت اور رفاقت کی کتنی ضرورت ہوتی ہے۔

شاید ہر باپ چاہتا ہے کہ اس کا بیٹا کسی دن اس کے ساتھ چلے، اس کی بات سنے، اور اس کے پاس ٹھہرے۔ بچپن میں باپ ہمارا ہاتھ تھامتا ہے۔ پھر زندگی میں ایک وقت آتا ہے جب ہماری موجودگی اس کے لیے سہارا بن سکتی ہے۔

آج مجھے اپنے والد کی اسی موجودگی کی قدر پہلے سے زیادہ محسوس ہوئی۔

ایک بلب، دو کمرے

مجھے یاد آیا کہ ہمارے گھر میں ایک بلب سے دو کمروں میں روشنی کا کام لیا جاتا تھا۔ بچپن میں یہ ہمارے گھر کی ایک عام بات تھی۔ اس وقت میں اسے معاشی تدبیر کے طور پر نہیں دیکھتا تھا۔ اب سوچتا ہوں تو سمجھ آتی ہے کہ محدود آمدن میں گھر چلانے کے لیے ہر چھوٹی چیز پر غور کرنا پڑتا ہے۔

والد جانتے تھے کہ ہمارے پاس کتنا ہے اور اسی میں کتنی ضرورتیں پوری کرنی ہیں۔ روشنی بھی چاہیے، کھانا بھی، بچوں کی تعلیم بھی، اور گھر کی دوسری ضروریات بھی۔ کسی ایک خرچ کو باقی زندگی سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا تھا۔

ایک بلب کی یہ یاد میرے لیے عقلِ معاش کا پہلا سبق بن گئی: وسائل کی قدر کرنا اور ان کے استعمال میں مقصد کو سامنے رکھنا۔

البتہ آج اس یاد کو لکھتے ہوئے میں تنگی کو خوب صورت بنا کر پیش نہیں کرنا چاہتا۔ محدود وسائل میں زندگی آسان نہیں ہوتی۔ بہت سی خواہشیں مؤخر کرنی پڑتی ہیں اور بعض ضروریات بھی پوری نہیں ہو پاتیں۔ میرے والد کی خوبی یہ تھی کہ وہ ان حالات میں بھی گھر کی ذمہ داری اٹھاتے رہے اور ہمارے لیے گنجائش پیدا کرتے رہے۔

گھر کی آوازوں میں پڑھائی

مجھے گھر کے کام کاج کی آوازوں کے درمیان اپنی پڑھائی بھی یاد آئی۔ گھر اپنی رفتار سے چل رہا ہوتا تھا، اور مجھے اسی ماحول میں کتاب کھول کر بیٹھنا ہوتا تھا۔

آج ہم تعلیم کے لیے ایک الگ کمرہ، خاموشی، اچھی میز اور مناسب سہولتوں کی بات کرتے ہیں۔ ان کی اہمیت اپنی جگہ ہے، مگر میرے بچپن میں پڑھائی کے لیے ہمیشہ ایسے حالات میسر نہیں تھے۔ مجھے دستیاب ماحول میں ہی توجہ قائم کرنا سیکھنا پڑی۔

پھر وہ راتیں یاد آئیں جب میں صبح کے قریب دو بجے اٹھ کر پڑھتا تھا۔ اس وقت گھر نسبتاً خاموش ہوتا اور مجھے اپنی کتابوں کے ساتھ وقت مل جاتا۔ یہ میری تعلیم کا ایک طریقہ تھا، جسے میں نے اپنے حالات کے مطابق اختیار کیا۔

آج اس تجربے سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ انسان اپنی منزل کی طرف بڑھنے کے لیے وقت کی ترتیب بدل سکتا ہے، اپنی عادتوں پر کام کر سکتا ہے، اور موجود حالات میں بہتر راستہ تلاش کر سکتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ اگلی نسل کے لیے ہم ایسا ماحول بنائیں جس میں اسے پڑھنے کے لیے اپنی نیند اور آرام کی اتنی قربانی نہ دینا پڑے۔

والد نے اپنی استطاعت میں جو ممکن تھا، وہ کیا۔ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی استطاعت کے مطابق اس سے آگے بڑھیں۔

پنکھے کے بغیر سونے والے والد

مجھے یاد ہے کہ والد پنکھے کے بغیر سو لیا کرتے تھے۔ بچپن میں شاید میں نے اس بات پر زیادہ غور نہیں کیا۔ آج اپنی ضروریات اور آرام کی عادتوں کو دیکھتا ہوں تو ان کی سادگی کا احساس ہوتا ہے۔

میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ ہر موقع پر اس کی وجہ کیا تھی۔ مگر آج یہ یاد مجھے ایک سوال کے سامنے کھڑا کرتی ہے: گھر چلانے والے شخص نے اپنی کتنی ضرورتیں خاموشی سے کم کی ہوں گی؟

بچوں کو اکثر اپنی پوری ہونے والی ضرورتیں دکھائی دیتی ہیں۔ والدین کی چھوڑی ہوئی خواہشیں دکھائی نہیں دیتیں۔

باپ کی محنت کا ایک حصہ آمدن میں نظر آتا ہے، اور دوسرا حصہ اس کی اپنی ذات پر کم خرچ کرنے میں۔ ہم پہلے حصے کا حساب لگا سکتے ہیں؛ دوسرے حصے کو سمجھنے میں کبھی برسوں لگ جاتے ہیں۔

لکڑی کی تیلیوں سے بنا قلم

ایک اور یاد ذہن میں ابھری: والد نے میرے لیے لکڑی کی تیلیوں سے قلم بنایا تھا۔

اس چھوٹی سی چیز میں ان کا وقت، توجہ اور ہاتھوں کی محنت شامل تھی۔ وہ اپنے بچے کے لیے دستیاب چیز سے ایک مفید چیز بنا رہے تھے۔ آج سوچتا ہوں تو اس یاد میں وسائل سے بڑھ کر تعلق کی قدر محسوس ہوتی ہے۔

والدین کی تربیت صرف خرید کر دینے میں نہیں ہوتی۔ بعض اوقات وہ بچے کے ساتھ بیٹھنے، اس کے لیے کچھ بنانے، اور اسے کسی کام کا طریقہ سکھانے میں ہوتی ہے۔

اس قلم نے مجھے لکھنے کا وسیلہ دیا ہوگا؛ آج اس کی یاد مجھے یہ سمجھا رہی ہے کہ محدود وسائل میں تخلیقی سوچ بھی ایک سرمایہ ہوتی ہے۔

مٹی پر ریاضی

مجھے وہ منظر بھی یاد ہے جب والد اپنی انگلی سے مٹی پر ریاضی کے سوال حل کرکے سمجھاتے تھے۔

مٹی ہماری تختی بن جاتی تھی اور ان کی انگلی لکھنے کا وسیلہ۔ سوال لکھا جاتا، سمجھایا جاتا، اور پھر اسی جگہ اگلا سوال شروع ہو جاتا۔

اس یاد میں میرے والد ایک معلم کی صورت میں موجود ہیں۔ ان کے پاس اپنے بچے کو سمجھانے کا ارادہ تھا، اور انہوں نے اسی ارادے کے لیے آس پاس کی چیزوں کو استعمال کیا۔

آج، جب میں خود تعلیم اور تدریس سے وابستہ ہوں، اس منظر کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ ایک بچے کے لیے کسی بڑے کی توجہ کتنی قیمتی ہوتی ہے۔ کوئی اس کے ساتھ بیٹھے، اس کی مشکل سمجھے، اور اسے حل تک پہنچنے میں مدد دے—یہ تجربہ اس کے اعتماد کا حصہ بن سکتا ہے۔

مٹی پر لکھے ہوئے وہ سوال مٹ گئے، مگر پڑھانے والے ہاتھ کی یاد باقی ہے۔

آج میں نے کیا سمجھا؟

والد کے ساتھ اس صبح کی سیر نے میرے بچپن کی یادوں کو ایک نئے معنی دیے۔ پہلے میں ان واقعات کو اپنے گھر کے حالات سمجھتا تھا۔ اب ان میں گھر چلانے کی حکمت، ذمہ داری اور تربیت کے سبق بھی دیکھتا ہوں۔

میرے لیے عقلِ معاش میں آمدن اور خرچ کا حساب ضرور شامل ہے، مگر اس کے ساتھ یہ سوال بھی آتے ہیں: ہم کس ضرورت کو پہلے پورا کرتے ہیں؟ اپنی آسائش اور گھر والوں کی ضرورت میں توازن کیسے رکھتے ہیں؟ بچوں کی تعلیم کے لیے کیا گنجائش نکالتے ہیں؟ اور کیا ہماری مصروف زندگی میں والدین کے لیے وقت باقی ہے؟

میرے والد نے ان سوالوں پر کوئی کتاب نہیں لکھی۔ انہوں نے اپنی زندگی میں ان کے جواب دیے۔ ایک بلب، لکڑی کا قلم اور مٹی پر لکھا ہوا حساب اسی زندگی کے چھوٹے چھوٹے شواہد ہیں۔

اب میں اپنے بچوں، اپنے گھر اور اپنی ذمہ داریوں کو دیکھتا ہوں تو محسوس کرتا ہوں کہ ان یادوں کو محفوظ کرنا ضروری ہے۔ اس لیے بھی کہ میں اپنے والد کی محنت کو بہتر سمجھ سکوں، اور اس لیے بھی کہ میرے بچے جان سکیں کہ ان سے پہلے کی نسل نے زندگی کیسے سنبھالی تھی۔

یہ کتاب اسی سمجھ کی تلاش سے شروع ہو رہی ہے۔

آج میں والد کے ساتھ صبح کی سیر پر نکلا تھا۔ واپسی پر میرے ساتھ اپنے بچپن کے کئی سبق تھے—اور یہ احساس کہ والد کے پہلو میں چلنے کے لیے نکالا ہوا وقت بھی زندگی کی ایک قیمتی کمائی ہے۔

← All articles

Chat on WhatsApp Call the clinic