والدین کے لیے آسان رہنمائی
اگر آپ کو بتایا گیا ہے کہ آپ کے بچے کو پی ڈی اے (PDA) ہے تو پریشان ہونا فطری بات ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ ہر پی ڈی اے خطرناک نہیں ہوتا اور ہر بچے کو اسے بند کروانے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔ درست فیصلہ بچے کے معائنے اور ایکو کے بعد کیا جاتا ہے۔
پی ڈی اے کیا ہوتا ہے؟
ماں کے پیٹ میں ہر بچے کے دل کے قریب ایک قدرتی خون کی نالی ہوتی ہے۔ یہ دل سے نکلنے والی دو بڑی شریانوں کو ملاتی ہے۔ پیدائش کے بعد بچہ اپنے پھیپھڑوں سے سانس لینے لگتا ہے تو یہ نالی عموماً چند دنوں میں بند ہو جاتی ہے۔ اگر یہ کھلی رہے تو اسے پیٹنٹ ڈکٹس آرٹیریوسس یا مختصراً پی ڈی اے کہتے ہیں۔ یہ دل کے اندر سوراخ نہیں، بلکہ دل کے قریب دو شریانوں کے درمیان کھلا رہ جانے والا راستہ ہے۔
کیا ہر پی ڈی اے بچے کو تکلیف دیتا ہے؟
نہیں۔ چھوٹا پی ڈی اے اکثر کوئی علامت نہیں دیتا۔ کبھی ڈاکٹر کو معائنے کے دوران صرف دل کی ایک اضافی آواز، جسے مرمر کہتے ہیں، سنائی دیتی ہے۔
اگر پی ڈی اے بڑا ہو تو پھیپھڑوں کی طرف ضرورت سے زیادہ خون جا سکتا ہے۔ ایسے بچے کو سانس تیز آنے، دودھ پینے میں تھکن، یا وزن بڑھنے میں دشواری ہو سکتی ہے۔ یہ علامات ہر بچے میں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔
والدین کن علامات پر نظر رکھیں؟
بچے کا طبی معائنہ کروائیں اگر:
- اس کی سانس مسلسل تیز چلتی ہو؛
- دودھ پیتے ہوئے جلد تھک جائے یا بہت پسینہ آئے؛
- دودھ کم پی رہا ہو؛
- وزن مناسب طریقے سے نہ بڑھ رہا ہو۔
شدید سانس کی تکلیف، ہونٹ یا زبان کا مسلسل نیلا ہونا، بے ہوشی، یا بچے کا غیر معمولی طور پر سست پڑ جانا فوری طبی امداد کا تقاضا کرتا ہے۔ ایسی صورت میں اسے صرف پی ڈی اے کی علامت سمجھ کر انتظار نہ کریں۔
پی ڈی اے کی تشخیص کیسے ہوتی ہے؟
ایکو دل کا الٹراساؤنڈ ہے۔ اس سے ڈاکٹر دیکھتے ہیں کہ نالی کھلی ہے یا نہیں، اس میں خون کس طرح بہہ رہا ہے، اور دل پر اس کا کیا اثر پڑ رہا ہے۔ بچے کی علامات اور نشوونما بھی علاج کا فیصلہ کرنے میں اہم ہیں۔
علاج کے کیا راستے ہیں؟
علاج ہر بچے کے لیے مختلف ہو سکتا ہے:
- نگرانی: اگر پی ڈی اے چھوٹا ہے اور دل یا پھیپھڑوں پر نمایاں اثر نہیں ڈال رہا تو ڈاکٹر وقفے وقفے سے معائنہ اور ایکو کا مشورہ دے سکتے ہیں۔ بعض چھوٹے پی ڈی اے خود بھی بند ہو جاتے ہیں۔
- دوا: وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بعض بچوں میں نوزائیدہ بچوں کی ٹیم مخصوص دوا استعمال کر سکتی ہے۔ گھر پر خود سے دوا دے کر پی ڈی اے بند کرنے کی کوشش نہ کریں۔
- کیتھیٹر سے بندش: بہت سے بچوں میں ٹانگ کی خون کی نالی سے ایک باریک نلکی گزار کر چھوٹی ڈیوائس کی مدد سے پی ڈی اے بند کیا جا سکتا ہے۔
- آپریشن: بعض حالات میں جراحی بندش زیادہ مناسب ہوتی ہے۔
ڈاکٹر بچے کی عمر، وزن، ایکو اور مجموعی صحت دیکھ کر مناسب راستہ بتاتے ہیں۔
علاج کے بعد کیا ہوگا؟
پی ڈی اے بند ہونے کے بعد اکثر بچے اچھی طرح صحت یاب ہوتے ہیں اور معمول کی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔ فالو اَپ کی ضرورت اور اگلے ایکو کی تاریخ اپنے بچے کے ماہرِ امراضِ قلب سے ضرور معلوم کریں۔
یاد رکھنے کی بات: رپورٹ میں “PDA” لکھا ہونا بذاتِ خود آپریشن کا فیصلہ نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ نالی آپ کے بچے کے دل، سانس اور نشوونما پر کتنا اثر ڈال رہی ہے۔ ایکو اور معائنے کے بعد اس کا واضح جواب ملتا ہے۔
طبی وضاحت: یہ مضمون صرف عمومی آگاہی کے لیے ہے۔ یہ کسی بچے کے انفرادی طبی معائنے، تشخیص یا علاج کا متبادل نہیں۔ ہر بچے کی بیماری اور ضروریات مختلف ہوسکتی ہیں، اس لیے بچوں کے ماہرِ امراضِ قلب سے مشورہ ضروری ہے۔
ڈاکٹر ملک عابد علی
ایم بی بی ایس، ایف سی پی ایس اطفال، ایف سی پی ایس اطفال کارڈیالوجی
کنسلٹنٹ پیڈیاٹرک اینڈ انٹروینشنل کارڈیالوجسٹ